مینگلور 30/مئی (ایس او نیوز) مینگلور کے پراتھیک نائیک نے کومن انٹرنس ٹیسٹ شعبہ انجینرنگ میں پوری ریاست میں اول رینک حاصل کرکے نہ صرف اپنے شہر بلکہ اپنی کالج کا نام بھی روشن کردیا ہے۔ سی ای ٹی کے نتائج آج 30 مئی کو بنگلور میں ظاہر کئے گئے ہیں۔پراتھیک مینگلور کی ایکپسرٹ پی یو کالج کا طالب العلم تھا۔
بنگلور میں میڈیکل ایجوکیشن منسٹر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے سی ای ٹی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پراتھیک نائک نے 99.27 فیصد اوسط کے ساتھ پوری ریاست میں ٹاپ کیا ہے۔ ریاست میں دوسرے نمبر پر بنگلور کے سومناتھ ہیگڈے کا نام ہے جس نے وی وی ایس سردار پٹیل کالج بنگلور سے تعلیم حاصل کی ہے، اس کی کامیابی کا اوسط 99.16 فیصد ہے۔ شعبہ انجینرنگ میں بنگلور کے آر وی کالج کے انیورودھ نے تیسرا مقام حاصل کیا ہے جس کی کامیابی کی شرح 98.78 فیصد ہے۔
خیال رہے کہ مئی 2 اور 3 کو سی ای ٹی امتحانات منعقد ہوئے تھے، ریاست بھر میں جملہ 404 امتحانی مراکز سے جملہ 1,85,411 طلبا و طالبات نے امتحانات میں حصہ لیا تھا۔ سی ای ٹی کے نتائج کے بعد طالبات نے سب سے زیادہ رینک حاصل کئے ہیں۔ نیٹ امتحان کے نتائج کے اعلان کے بعد اسی بنیاد پر میڈیکل اور ڈینٹل کورسوں کیلئے رینکنگ کا اعلان کیا جائے گا۔اسی طرح آرکیٹکچر کورس کیلئے کل ہند سطح پر کروائے گئے این ٹی اے امتحان کے رینکنگ کی بنیاد پر اس کورس میں داخلے کیلئے رینکنگ کی جائے گی۔ اس سال سی ای ٹی امتحان میں ہندوستانی طرز علاج اور ہومیو پیتھک کورسوں کیلئے 96642امیدواراہل قرار دئے گئے ہیں۔انجینئرنگ کیلئے 12580 ،رینک دئے گئے ہیں۔ بی ایس سی اگریٹیک کورس کیلئے 95767 رینک دئے گئے ہیں۔ بی فارما اور ڈی فارماکیلئے 126839طلبا اہل قرار دئے گئے ہیں۔
امسال سی ای ٹی امتحان میں پہلا تا پانچواں رینک حاصل کرنے والے تمام طلبا کو ان کا پروفیشنل کورس مکمل ہونے تک فیس حکومت کی طرف سے ادا کی جائے گی۔ساتھ ہی حیدرآباد کرناٹک کے پانچ ٹاپ طلبا کو سرکاری خرچ پر تعلیم دلائی جائے گی۔مسٹر بسوراج رایا ریڈی نے اعلان کرتے ہوئے بتایاکہ مختلف کورسوں کیلئے اہلیت حاصل کرنے والے طلبا کو 5جون سے کونسلنگ کی جائے گی اور دستاویزات کا جائزہ لیا جائے گا۔سی ای ٹی کے بک لیٹ میں عنقریب تمام تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے 16اضلاع میں دستاویزات کی جانچ اور تعاون کیلئے مراکز قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایاکہ انجینئرنگ کورس کیلئے سرکاری فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا ہے، گزشتہ سال طے کی گئی فیس کو رواں سال بھی برقرار رکھا گیا ہے، حالانکہ نجی انجینئرنگ کالجوں نے فیس میں دس فیصد اضافہ کی مانگ رکھی تھی، جسے حکومت نے نامنظور کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سی ای ٹی کی طرف سے مختلف کورسوں کیلئے کونسلنگ کی شروعات کے بعد ہی کامیڈ کے کے ذریعہ سیٹوں کی تقسیم کرنے نجی کالجوں کو ہدایت دی گئی ہے، اس کے مطابق سب سے پہلے سی ای ٹی کے طلبا کو سیٹیں مہیا کرائی جائیں گی۔